.
.
.
.

مصری صدر کے اعلان تک الاخوان کا ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان

دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے والے بھی دھرنوں میں شریک

نشر في:

مصر کی سب سے بڑی اور منظم اسلامی تحریک الاخوان المسلمین نے صدارتی امیدواروں ڈاکٹر محمد مرسی اور احمد شفیق کے درمیان مقابلے کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے سرکاری نتائج کے اعلان تک ملک کے طول و عرض میں واقع تمام اہم مقامات پر احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔

اس امر کا فیصلہ تنظیم کے بدھ کو رات گئے ہونے والے مکتب الارشاد کے اجلاس میں کیا گیا۔ یہ اجلاس ان افواہوں کے بعد منعقد ہوا کہ دوسری مرحلے میں ڈاکٹر مرسی کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کے لئے پوسٹ الیکشن دھاندلی کی جا رہی ہے۔

صدارتی انتخابات کی سپریم کمیٹی نے اپنے گزشتہ روز جاری کردہ بیان میں انتخابی نتائج کے سرکاری اعلان کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی تھی۔ بہ قول کمیٹی بیان اس وقت دونوں امیدواروں کی جانب سے تقریبا چار سو کے قریب اپیلیں اور انتخابی عذر داریاں ان کے زیر سماعت ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ انتخابی کمیشن کو ان اپیلوں کی سماعت اور چھان پھٹک کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ اس مشکوک انداز بیان کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں انتخابی نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں کیونکہ صدارتی انتخاب کے لئے کردہ روڈ میپ میں یہ امر طے تھا کہ دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے تین روز بعد یعنی [22 جون بروز جمعرات] انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان کر دیا جائے گا۔

گزشتہ روز قاہرہ کے تحریر چوک میں فوجی کونسل کے حالیہ اقدامات کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی دھرنا دیا۔ ان نئے صدر کے اختیارات پر قدغن سمیت دستوری عدالت کے ذریعے منتخب پیپلز اسمبلی کی تحلیل شامل ہے۔

تحریر اسکوائر پر ہونے والے احتجاجی دھرنے میں ان نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی کہ جنہوں نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔