.
.
.
.

مصر: میدان تحریر میں عوامی اجتماع سے جنوری 2011ء کے انقلاب کی یاد تازہ

اڑتالیس گھنٹوں میں اہم تبدیلی کا امکان، ملک میں سراسیمگی

نشر في:

مصر میں سپریم الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر عوام میں سخت اشتعال اور غم وغصہ پایا جا رہاہے۔ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور دیگر انقلابی گروپوں کی جانب سے آج جمعہ کے روز ملک بھرسےلاکھوں شہریوں کو میدان تحریر میں جمع ہونے کی کال دی گئی ہے، جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں قافلے میدان تحریر کی جانب گامزن ہیں۔

‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کےمطابق عوام میں جہاں حکومت، مقتدر مسلح افواج اور الیکشن کمیشن پر سخت غصہ ہے وہیں وہ میدان تحریر میں جمع ہونے میں پرجوش بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جمعرات کو ملک کے دور دراز شہروں سے قافلوں کی شکل میں جب میدان تحریر کی طرف مارچ شروع کیا تو ان کے ھجوم کے باعث قاہرہ کی سڑکوں میں ٹریفک بری طرح پھنس گئی تھی، جوکئی گھنٹے تک جام رہی۔

عینی شاہدین اور العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگاروں کی اطلاعات کے مطابق مظاہرین سابق سزا یافتہ صدر محمد حسنی مبارک کے وزیراعظم احمد شفیق کےخلاف نعرےبازی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین کے ہاتھوں میں اٹھائے بینروں پر دستور کی تکمیل تک کامیاب صدرکے اعلان کی تاخیر، عدلیہ کی جانب سے ٹال مٹول اور پیپلز کونسل کو تحلیل کیے جانےکے امکانات کی مخالفت میں نعرے درج ہیں۔ میدان تحریر میں قافلوں کی شکل میں داخل ہونے والوں کی زبانوں پر گذشتہ برس پچیس جنوری کے انقلاب کے دوران سنائی دینے والے نعرے آج بھی سنائی دیتے ہیں۔ ان میں ‘‘مسلم و مسیحی ایک ہیں’’ اور ‘‘گو ملٹری گو’’ جیسے نعرے شامل ہیں۔

جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق نماز عصرکے بعد دارالحکومت قاہرہ کی سڑکوں پر ٹریفک کا ھجوم قابو سے باہر ہوگیا تھا۔ لوگ پے درپے قافلوں کی شکل میں کامیاب ہونے والے صدر کے فوری اعلان اور تمام اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنےکے حق میں نعرے لگاتے میدان تحریر کی طرف بڑھ رہے تھے۔

سب سے زیادہ نعروں کے دوران مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنری محمد حسین طنطاوی کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین میں اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی شامل تھے، جو اخوان کے کارکنوں کے ساتھ مل کر ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی کے نعرے لگا رہے تھے۔

ادھر میدان تحریر کے آج ملین اجتماع نے ایوان حکومت میں سراسیمگی کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے تاہم امکان ہے کہ اگلے ایک یا دو روز میں فوج اور حکومت عوامی دباؤ کے نتیجے میں اہم فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ عوامی دباؤ کے بعد امکان ہے کہ الیکشن کمیشن اتوار کا ما بعد انقلاب پہلے صدارتی انتخابات میں کامیاب قرار پانے والے صدر کا باضابطہ اعلان کرے گا۔ انتخابات کے آخری مرحلے میں اخوان المسلمون کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی کی اطلاعات آ رہی تھیں تاہم لبرل حلقوں کے نمائندہ احمد شفیق نے بھی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔