.
.
.
.

مصر:فوج کا مظاہرین کو انتباہ، میدان تحریر میں ڈاکٹر مرسی کی کامیابی کی تقریبات

تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد خیمہ زن

نشر في:

مصر میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی سیاسی پارٹی‘‘ آزادی وانصاف’’ نے سابق رکن اسمبلی جمال حشمت کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سپریم الیکشن کمیشن نے جماعت کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی کا باضابطہ اعلان تحریر کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ جسے جلد ہی عوام کے لیے جاری کردیا جائے گا۔

اخبار‘‘الیوم السابع’’ کے مطابق ڈاکٹر جمال حشمت نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘‘ٹیوٹر’’ کے اکاؤنٹ پر بھی لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن ڈاکٹر محمد مرسی کی بطور صدر کامیابی کا ریکارڈ مرتب کررہا ہے۔ جمال حشمت کی اس خبر کا میدان تحریر کے اسٹیج سے بھی باربار اعلان کیا جا رہا ہے، جس سے تحریر اسکوائر میں جمع لاکھوں افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تحریر اسکوائر کے اسٹیج سے قومی ترانے نشر کرنے اور نئے صدر ڈاکٹر مرسی کے حق میں نعرے بازی کے علاوہ آتش بازی کے مظاہرے بھی جاری ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی کامیابی کے اعلان سے قبل ہی میدان تحریر میں ڈاکٹر مرسی کی کامیابی کی تقریبات شروع ہوچکی ہیں۔

فوج کا انتباہ

ادھر مصر کی گذشتہ ڈیڑھ سال سے برسراقتدار مسلح افواج کی سپریم کونسل نے احتجاج کرنے والے عوام کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کےخلاف بغاوت اور ملک میں افراتفری کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ فوج نے ملک میں امن وامان کو یقینی بنانے کے اعلان کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون ہاتھ میں لینے سے سختی سے گریز کریں۔


‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کے مطابق مصر کی عسکری کونسل کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں عوام کی جانب سے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کا مطالبہ مسترد کردیا۔ بیان میں کہا گیا کہ قبل از وقت صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ریاستی اداروں کا رعب اور بالادستی کمزور ہوگی اور اس کے قومی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

بیان میں میدان تحریر میں جمع لاکھوں افراد کے نام پیغام میں انہیں عدالتی احکامات کا احترام کرنے اور دستور کی تدوین کی تکمیل تک عبوری حکومت کو برداشت کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

فوج نے عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے یہ واضح کیا ہے کہ اس کے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ ایک جیسے تعلقات ہیں اور فوج کا تمام سیاسی گروپوں کے درمیان یکساں فاصلہ ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ فوج بعض سیاسی جماعتوں کے قریب ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخابات کے نتائج کو التواء میں ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب قاہرہ کے وسط میں انقلاب کی علامت سمجھے جانے والے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد کامیاب صدارتی امیدوار کا اعلان نہ کرنے پرفوج کےخلاف دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعہ کے روز ملک بھر سے ہزاروں قافلے میدان تحریرپہنچے۔ مظاہرین نے گذشتہ برس سابق صدرحسنی مبارک کےخلاف احتجاج کے طریقہ کار کے مطابق تازہ احتجاج کے دوران بھی تحریر چوک میں ٹریفک کی آمد ورفت روک دی۔

مصری انقلابیوں کی نمائندہ تنظیم ‘‘چھ اپریل موومنٹ’’ نے بھی اخوان المسلمون کے ساتھ تحریر چوک میں احتجاجی دھرنے میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ انقلابی گروپ کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے مطابق کامیاب صدر کے نام کے اعلان کا مطالبہ پوری قوم کا متفقہ مطالبہ ہے۔ فوج نے انتخابی نتائج روک کر سابق صدر حسنی مبارک کی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں حال ہی میں ہوئے صدارتی انتخابات کےآخری مرحلے میں اخوان المسلمون کے ڈاکٹر محمد مرسی اور سابق وزیراعظم احمد شفیق مد مقابل تھے۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے باوجود فوج نے کامیاب صدر کا نام دستور کی تدوین کی تکمیل تک صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔