.
.
.
.

مصر: ڈاکٹر مرسی کامیاب قرار، نتائج کا اعلان کل ہوگا:اخبار کا دعویٰ

انتظار کی گھڑیاں اختتام کے قریب تر

نشر في:

مصر میں صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج اور کامیاب قرار دیے جانے والے امیدوار کے نام کے اعلان کی انتظار کی گھڑیاں اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ سپریم الیکشن کمیشن کے چیئرمین ایڈووکیٹ فاروق سلطان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کل اتوار کو کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سےبھی جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران کامیاب قرار دیے گئے امیدوار کا اعلان اتوار کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے کمیشن کے چیئرمین ایک پریس کانفرنس میں کریں گے۔

درایں اثناء مصر میں لبرل طبقے کے ترجمان اخبار ’’الیوم السابع’’ نے اطلاع دی ہے کہ مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کامیاب امیدوار قرار دیے گئے ہیں۔ اخوان المسلمون اور مذہبی جماعتوں کی مخالفت میں شہرت رکھنے والے اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم اور آزاد خیال امیدوار احمد شفیق کو صدارتی انتخابات میں شکست ہوچکی ہے، جس کے بعد کل الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈاکٹر محمد مرسی ہی کی کامیابی کا اعلان کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے ضلع اسیوط کی تین کمیٹیوں کی جانب سے دائر کردہ شکایات نمٹا دی ہیں۔ ان شکایات کو نمٹاتے ہوئے احمد شفیق کو اٹھائیس اور ڈاکٹر محمد مرسی کو بیس مزید ووٹ دیے گئے ہیں۔ تاہم گنتی کے دوران مجموعی طور پر اخوان المسلمون کے امیدوار کا پلڑا بھاری رہا، جس کے بعد اب ان کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا جا رہا ہے۔

اخبار نے الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار کی شناخت صیغہ راز میں رکھتے ہوئے اس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ووٹوں کی گنتی میں اب کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا ہے اور اخوان المسلمون کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کو سو فی صد کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ملک بھر کی تیرہ ہزار الیکشن کمیٹیوں کی جانب سے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔ اس دوران سامنے آنے والی شکایات کو بھی نمٹایا گیا ہے۔

اخبار‘‘الیوم السابع’’ نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے امیدوار کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قوم کے تمام طبقات کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔ کیونکہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی جمہوریت کی کامیابی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ حقیقی روشن خیالی اور لبرل ازم یہ ہے کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں کامیاب قرار دیے گئے کسی بھی طبقے کے نمائندہ شخص کوکھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ اخبار نے اپنے ہم خیال قارئین کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے منتخب صدر کو نہ صرف برداشت کریں بلکہ ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ملک میں نوزائیدہ جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ مصر میں پچیس جنوری 2011ء کے انقلاب کے ڈیڑھ سال بعد ہونے والے پہلے صدارتی انتخابات کو نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ مصر کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر نہ صرف مصری عوام نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے بلکہ یہ اس وقت عرب اور عالمی میڈیا کی توجہ کا بھی مرکز ہے۔