.
.
.
.

سلامتی کونسل کی خاموشی اسدی فوج کے لئے قتل عام کا لائسنس ہے: بان کی مون

فرانس کی شام سے متعلق روسی اور چینی پالیسیوں پر تنقید

نشر في:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کا شامی حکومت کےخلاف حرکت میں نہ آنا ملک میں اسد نواز فورسز کو عوام کا قتل عام جاری رکھنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے ملک کے وسط میں "التریمسہ" میں تازہ قتل عام سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بشارالاسد کی حکومت عالمی امن مندوب کوفی عنان کے چھ نکاتی فارمولے پر عمل درآمد میں غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جو نہایت خطرناک علامت ہے۔

اپنے ایک بیان میں "یو این" سیکرٹری جنرل نے تریمسہ کے مقام پر نہتے شہریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شامی فوج نے جنگی ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں اور بھاری ہتھیاروں سے بستی پر حملہ کرکے اسے نیست ونابود کردیا ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں فرانس نے روس اور چین کی شام نواز پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولانڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کی دمشق حکومت بارے پالیسی نے شام کو خانہ جنگی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس اور چین نے اسد نواز پالیسی تبدیل نہ کی تو شام خانہ جنگی اور افراتفری کی دلدل میں اتر جائے گا۔ فرانسیسی صدر نے بھی تریمسہ میں ہوئے قتل عام کی شدید مذمت کی اور صدر بشارالاسد کی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔

فرانسیسی ٹی وی "پی ایف ایم" پر نشر صدر اولانڈ کے نام منسوب بیان میں انہوں نے روس اور چین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر ہم نے شام میں صدر بشارالاسد کےخلاف اقوام متحدہ کے ذریعے سخت پابندیاں لگانے میں تاخیر کی تو اس کا لازمی نتیجہ شام میں خانہ جنگی ہوگا"۔

درایں اثناء تریمسہ قتل عام کے بعد عالمی امن مندوب کوفی عنان نے بشارالاسد کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں بحران کےخاتمے کے لیے جاری عالمی مساعی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ سلامتی کونسل کو تحریر کردہ ایک مراسلے میں مسٹر عنان کا کہنا تھا کہ "شام میں قیام امن کے لیے وضع کردہ نقشہ راہ پر عمل درامد کے لیے دمشق حکومت کو قائل کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ سلامتی کونسل امن فارمولے پر عمل درآمد کے لیے صدر اسد کی حکومت پر مزید دباؤ ڈالے۔ انہوں نےکہا کہ سلامتی کونسل نے بروقت کارروائی نہ کی تو شام میں امن مساعی کی ناکامی بارے لوگوں کے خدشات حقیقت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔