.
.
.
.

دمشق کے نواح میں سرکاری فوج اور باغیوں میں جھڑپیں، مزید ہلاکتیں

ریڈکراس نے شام میں جاری تنازعے کو خانہ جنگی قرار دے دیا

نشر في:

شامی فوج دارالحکومت دمشق کے علاقے میدان میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور ان کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں نے میدان میں بعض سرکاری تنصیبات پر حملہ کردیا تھا اور انھیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے فوج پہلی مرتبہ دارالحکومت کے ایک علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں بکتر بند گاڑیاں لائی ہے۔صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں اور آزاد شامی فوج سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان دمشق کے نواحی قصبوں المزا اور کفرسوسہ کے درمیانی علاقے میں بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

درایں اثناء بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے شام میں جاری تنازعے کو خانہ جنگی قرار دے دیا ہے۔ ریڈکراس کے ترجمان ہشام حسن کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازعہ اب مشرقی اور وسطی صوبوں سے دوسرے علاقوں تک پھیل چکا ہے اور بین الاقوامی قانون کا ان تمام علاقوں پر اطلاق ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ارتکاب کیا جارہا ہے۔

شام میں گذشتہ سال مارچ کے وسط سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات میں سترہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس سے قبل ریڈ کراس کمیٹی نے اس کو مکمل خانہ جنگی قرار دینے سے گریز کیا تھا۔تاہم اقوام متحدہ کے بعض عہدے دار اس کو خانہ جنگی قرار دے چکے ہیں۔

التریمسہ میں کیا ہوا؟

اقوام متحدہ کے مبصرین کی ٹیم نے وسطی صوبے حماہ کے گاؤں التریمسہ میں گذشتہ جمعرات کو وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی مزید تفصیل جاننے کے لیے اتوار کو اس گاؤں کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شامی فوجیوں نے وہاں گھر گھر تلاشی کی کارروائی تھی اور مکینوں کے قومی شناختی کارڈ دیکھے تھے جس کے بعد ان میں سے بعض کو الگ کرکے ہلاک کردیا گیا اور بعض کو وہ پکڑ کر ساتھ لے گئے تھے۔

شامی حکومت نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس کی فوج نے التریمسہ پر حملے کے دوران ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کا استعمال کیا تھا۔شامی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی کا کہنا تھا کہ التریمسہ میں قتل عام نہیں ہوا تھا بلکہ فوج کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

شامی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو دمشق میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''وسطی گاؤں التریمسہ میں جو کچھ ہوا ،وہ فوج کا بے گناہ شہریوں پر حملہ نہیں تھا''۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سرکاری فوج کو التریمسہ میں داخلے پر مجبور کردیا تھا اور وہاں سینتیس جنگجو اور صرف دوشہری ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن اقوام متحدہ کے مبصرین کی ٹیم نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور اس کی رپورٹ کے مطابق التریمسہ پر حملے میں بظاہر فوجی باغیوں اور حکومت مخالف کارکنان کو نشانہ بنایا گیا تھا اور بہت سے مکانوں میں خون بکھرا پڑا تھا اور لوگوں کے بھیجے اڑے ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز پر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔مبصر مشن کے سربراہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ التریمسہ کے نزدیک تعینات مبصرین نے فوج کو بھاری ہتھیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو استعمال کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ٹیم کے مطابق چھے سے دس ہزار آبادی والے اس گاؤں میں کم سے کم پچاس مکانوں کو تباہ کردیا تھا مگر شامی حکومت کے ترجمان نے مبصر ٹیم کے اس دعوے کی تردید کی کہ حملے میں ٹینک ،توپخانے اور ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا گیا تھا۔

شامی حزب اختلاف اور کارکنان نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر گذشتہ جمعرات کو وسطی گاؤں التریمسہ میں قتل عام کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ شامی فوج نے ٹینکوں سے گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کرکے کم سے کم دوسو افراد کو ہلاک کردیا تھا۔اس واقعہ پر شامی حکومت پر کڑی تنقید کی جارہی ہے اور اس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔