عاجل

البث المباشر

امریکا: سرقہ بازی پر ٹائم میگزین کے ایڈیٹر فرید زکریا معطل

من وعن مضمون نقل کرنے پر سی این این نے بھی کام سے روک دیا

امریکا کے ٹائم میگزین نے بھارتی نژاد اپنے ایڈیٹر فرید زکریا کو ایک حالیہ مضمون میں چوری شدہ معلومات شائع کرنے کے اعتراف کے بعد ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے اور امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی انھیں اپنے ہاں کام کرنے سے روک دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سی این این کے ایک پروگرام کے میزبان اور ٹائم میگزین کے ایڈیٹر مشہور صحافی فرید زکریا نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے بیس اگست کے شمارے میں امریکا میں اسلحے سے متعلق ایک مضمون میں ایک دوسرے صحافی کے مضمون کے اقتباسات بغیر حوالے کے شامل کیے تھے اور اس مضمون میں شامل معلومات ان سے مستعار لی تھیں۔

فرید زکریا نے سرقہ بازی کے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی ہے لیکن دونوں اداروں نے مزید تحقیقات تک انھیں اپنے ہاں کام سے روک دیا ہے۔فرید زکریا نے اپنے مضمون میں امریکی اسلحے کے بارے میں کچھ معلومات دی تھیں مگر ان کے ذریعے کو پوشیدہ رکھا تھا۔ اسی طرح کی معلومات ہاروڈ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر امریکی مؤرخہ گیل لیپور کے اخبار نیویارکر میں شائع شدہ مضمون میں بھی دی گئی تھیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فرید زکریا اور گیل لیپور کے مضامین کے اقتباسات میں مماثلت کے بارے میں ایک ضمیمہ قدامت پسندوں کی ترجمان ویب سائٹ نیوز پاسٹرز نے شائع کیا ہے، جس کے بعد یہ معلومات تیزی کے ساتھ انٹرنیٹ پر شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

فرید زکریا امریکی یونیورسٹیوں "ییل" اور "ہارورڈ" سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ "سی این این" کے ایک پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اخبار واشنگٹن پوسٹ اور ٹائم میگزین میں کالم نگار ہیں۔ فرید زکریا امریکی سیاست کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فرید زکریا نے جمعہ کے روز میڈیا کے لیے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے تازہ مضمون کے بعض اقتباسات گیل لیپور کے 23 اپریل کو اخبار "نیویارکر" میں لکھے گئے مقالے سے لیے گئے ہیں۔

انھوں نے اپنی اس غلطی کا اعتراف اور معذرت کرتے ہوئے معلومات چوری کرنے کی تمام ترذمہ داری قبول کی ہے۔فرید زکریا نے ٹائم میگزین کے ایڈیٹر صاحبان اور قارئین سے بھی معذرت کی ہے۔

ٹائم میگزین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جریدے کی انتظامیہ نے صحافی فرید زکریا کی جانب سے علمی سرقے کے اعتراف کے بعدان پر ایک ماہ کے لیے کام پر پابندی عاید کردی ہے۔ ترجمان کاکہنا تھا کہ جریدے کی یہ پالیسی نہیں کہ وہ کسی کی چوری شدہ معلومات کو اپنے اوراق کی زینت بنائے۔جریدے کا معیار صرف حقیقی اور اپنی تحقیقی کاوشوں پر مبنی مواد کی اشاعت ہے اور کسی کی چوری شدہ معلومات کو مضامین شامل کرنے کو اخلاقی جرم قرار دیتا ہے۔

"سی این این" کی جانب سے بھی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی کی انتظامیہ نے فرید زکریا کے مضمون میں چوری شدہ معلومات کی اشاعت کے اعتراف کے بعد انھیں غیر معینہ مدت کے لیے کام سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ فرید زکریا پر پہلے بھی اس سال اس وقت سخت تنقید کی گئی جب انھوں نے ‘‘ڈیوک’’ یونیورسٹی میں دیے گیے ایک لیکچر سے ملتا جلتا لیکچر ہارورڈ یونیورسٹی میں دیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا میں کسی صحافی کی جانب سے سرقہ بازی کا گذشتہ دو ہفتے میں یہ دوسرا واقعہ سامنے آیا ہے۔ قبل ازیں سائنس کے ایڈیشن کے لیے مضمون نگار جونا لیریر نے اسی طرح کی غیر اخلاقی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ لیریر کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے ایک مضمون کے لیے پاپ ڈیلان نامی ایک دوسرے تجزیہ نگار کی معلومات شامل کی تھیں۔ اس اعتراف کے بعد اخبار ‘‘نیویارکر’’ نے جونا لیریر سے استعفٰی لے لیا تھا۔