عاجل

البث المباشر

معذور سعودی نوجوان کی ہمت افروز داستان لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکز!

عمار بوقس نے کیریئر کے لیے ہمت سے معذوری کو مات دے دی

کسی بھی ملک اور معاشرے میں جسمانی طور پر معذوروں کی کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن معذوری کو اپنے کیریئر کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دینا اور پر عزم محنت سے معذوری کو شکست دینا کم ہی لوگوں کی حصے میں آتا ہے۔ ایسی ہی ہمت افروز داستان جسمانی طور پر مفلوج سعودی شہری عمار بوقس کی ہے جس نے اپنے اپاہج پن کو شکست دے کر کام چوروں کو سبق اور اپنے جیسے معذوروں کو کچھ کرنے اور کر گذرنے کے لیے ایک ولولہ تازہ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جسمانی طور پر مفلوج عمار ھیثم بوقس کی زبان، آنکھیں، کان اور دماغ سلامت ہیں لیکن وہ پہلو بدلنے کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہے۔ ان تمام مشکلات اور جسمانی اپاہج پن کے باوجود عمار نے نہ صرف اسکول کی ابتدائی تعلیم میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی بلکہ شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ تیرہ سال کی عمر میں اس نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت بھی حاصل کر لی تھی۔ عمار بوقس تعلیم حاصل کر کے بےکار بھی نہیں رہا بلکہ اس نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا اور اسپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام کرتا رہا۔

حال ہی میں سعودی فلم پروڈیوسر بدر الحمود نے عمار ھیثم بوقس کے عزم و ہمت پر ایک مختصر دستاویزی فلم تیار کی۔ فلم ریلیز کرنے کے بعد اسے "یو ٹیوب" پر بھی نشر کیا۔ ابھی اس ویڈیو کو نشر ہوئے محض دو دن گذرے ہیں اور اسے دیکھنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد "العربیہ" نے بھی عمار بوقس سے رابطہ کیا اور اس سے معذوری، تعلیم، مشکلات اور اس کے ہمت وحوصلے کے بارے میں بات چیت کی۔ عمار نے نہایت اطمینان سے بات کی اور کہا کہ "بدر الحمود کی فلم کی کامیابی دراصل ان معذور لوگوں کی کامیابی ہے جو کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔"

"وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن جسمانی معذوری ان کی راہ میں آڑے آ رہی ہے۔ میں اس فلم کو اپنی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ تمام معذوروں کی کامیابی سمجھتا ہوں۔ جو شخص بھی اپنا ایک نصب العین مقرر کرے اور اس کے لیے کوشش شروع کر دے۔ یہ ویڈیو اس کے لیے ایک پیغام بھی ہے اور رہ نما بھی ہے۔ میں نے اپنی معذوری کو شکست دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں"۔

عمار بوقس نے معاشرے کے بعض طبقات کی جانب سے معذوروں کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ ہم لوگ معذوروں سے تعاون تو درکنار ان کا احترام بھی نہیں کرتے ہیں۔ عمار نے اپنی کامیابی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی ہمت اور توفیق سے ممکن ہوا ہے کہ میں اپنی مشکلات اور معذوریوں کے باوجود اس مقام تک پہنچا ہوں۔ عمار نے معذوروں کی بہبود کے لیے خادم الحرمین الشریفین کی خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی کی تعریف کی۔

العربیہ ٹی وی نے عمار بوقس سے اس کے مستقبل کے پروگرام کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ "میرا اگلا ہدف امریکا میں اعلیٰ تعلیم کا حصول ہے۔ اس کے علاوہ میں معاشرے میں معذوروں اور خصوصی توجہ کے مستحق افراد کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنا چاہتا ہوں۔"