.
.
.
.

ایران: مصری صدر کا بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ، شامی انقلاب کی تعریف

خامنہ ای کی شراکت داری پر مبنی نیو ورلڈ آرڈر کی تجویز

نشر في:

مصر کے صدر محمد مرسی نے بہادر شامی اور فلسطینی عوام کی جبر وتشدد کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے اور شامی صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصر، شامی انقلاب کی مدد کے لیے تیار ہے۔

وہ جمعرات کو تہران میں منعقدہ غیر وابستہ تحریک (نام) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے افتتاحی خطاب کیا لیکن انھوں نے اپنی تقریر میں شامی بحران کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

مصری صدر نے کہا کہ ''شامی صدر بشار الاسد حکمرانی کا قانونی جواز کھو چکے ہیں اور عالمی برادری کو شام میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں''۔ انھوں نے کہا کہ شامی عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا اظہار یک جہتی ایک اخلاقی فرض ہے اور یہ ایک سیاسی اور تزویراتی ضرورت بھی ہے۔

صدر محمد مرسی جب یہ تقریر کر رہے تھے اور شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو اس دوران غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شریک شامی وفد اٹھ کر چلا گیا۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نشست نہ ہونے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہمارے لیے یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی کوئی مستقل نشست نہیں ہے۔ اس کو زیادہ نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔

خامنہ ای کا نیا ورلڈ آرڈر

قبل ازیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے غیر وابستہ تحریک کے سربراہ اجلاس سے افتتاحی خطاب میں ایک نئے ورلڈ آرڈر پر زور دیا جو ان کے بہ قول شراکت داری پر مبنی ہونا چاہیے۔

خامنہ ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ امریکا اور اس کے حاشیہ نشین ممالک کی آلہ کار ہے جو اس کے ذریعے اعلیٰ اقدار اور جمہوریت کے پردے میں دوسرے ممالک پر اپنی بالادستی اور تسلط مسلط کرتے ہیں۔

انھوں نے عالمی سلامتی کے لیے خطرے کا سبب وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر قابو پانے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ مصری صدر نے بھی وسییع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ جوہری ہتھیار ریاستوں کو سکیورٹی مہیا کرتے ہیں اور نہ ہی اتھارٹی۔ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی مگر وہ جوہری توانائی کی ترقی کے حق سے بھی دستبردار نہیں ہو گا۔

انھوں نے صہیونی ریاست اسرائیل کو جوہری ہتھیار رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مغربی طاقتیں جوہری صلاحیتوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

نام سربراہ اجلاس میں ایک سو بیس رکن ممالک کے سربراہان ریاست ومملکت اور اعلیٰ عہدے دار شرکت کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھنے والے یہ ممالک اقوام متحدہ کے ارکان کا قریباً دو تہائی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی دعوت پر سربراہ اجلاس میں مبصر کے طور پر شریک ہیں۔ ایران مخالف امریکا اور اسرائیل نے بین کی مون کو نام سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بین کی مون نے گذشتہ روز ایرانی لیڈروں سے اپنی ملاقات اور سربراہ اجلاس میں تقریر کے دوران ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اپنا موضوع سخن بنایا اور ایران کے جوہری تنازعے کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف ایرانی لیڈروں کے تند وتیز بیانات اور دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کے مبنیہ قتل عام ہولوکاسٹ کا انکار کرنے پر بھی ایرانی لیڈروں پر تنقید کی۔