.
.
.
.

لیبیا میں متعین امریکی سفیر کا قتل،اقوام متحدہ کی شدید مذمت

امریکا میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف پُرتشدد احتجاج

نشر في:

اقوام متحدہ نے لیبیا میں متعین امریکی سفیر اور سفارتی عملے کے تین ارکان کی مشتعل مظاہرین کے حملے میں قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور جیفرے فیلٹ مین نے بدھ کو نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک بیان میں کہا کہ ''ہم بن غازی میں منگل کو امریکیوں پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں''۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی لیبیا میں اپنے ملک کے سفیر کرسٹوفر اسٹیونز کے قتل شدید مذمت کی ہے اور دنیا بھر میں امریکی سفارتی مشنوں کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں منگل کی رات ایک مشتعل ہجوم نے امریکی قونصل خانے کی عمارت پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے تھے اور اس پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں متعین امریکی سفیر اور تین سفارت کار ہلاک ہوگئے تھے۔

لیبی شہری امریکا میں بنائی گئی اسلام کی توہین پر مبنی فلم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس فلم میں اداکاری کرنے والے امریکی لب ولہجے میں انگریزی بول رہے ہیں۔اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین پر مبنی اس فلم کا کچھ حصہ یوٹیوب پر پوسٹ کیا گیا تھا جس کو دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں شدید غیظ وغضب کا شکار ہیں۔اس فلم کے خلاف مصر اور دوسرے ممالک میں بھی شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیونز قونصل خانے پر حملے میں مارے گئے تھے یا وہ بن غازی میں واقع ایک ''محفوظ گھر'' پر حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔لیبیا کے نائب وزیرداخلہ وینس الشریف نے بتایا ہے کہ قونصل خانے پر حملے کے بعد وہاں سے سفارتی عملہ ''سیف ہاؤس'' میں چلا گیا تھا لیکن وہاں بھی مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ دو امریکی سفارت کار ''سیف ہاؤس'' پر فائرنگ کے واقعہ میں مارے گئے ، دوقونصل خانے پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور بارہ سے سترہ کے درمیان افراد زخمی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں قبائلی جنگجو اور مسلح افراد بھی شامل تھے اور یہ کہا جارہا ہے کہ لیبیا میں القاعدہ کی طرز کے سنی گروپ انصارالشریعہ نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔ایک عینی شاہد کے بہ قول حملے کے وقت انصار الشریعہ کی گاڑیاں قونصل خانے کے آس پاس دیکھی گئی تھیں لیکن بعد میں وہ وہاں سے چلی گئی تھیں۔

القاعدہ اور قذافی کی باقیات پر الزام

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے بن غازی میں امریکی سفارت کاروں کے قتل کی مذمت کی ہے اور اسے ایک چھوٹے گروپ کی کارستانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں لیبیا کے عوام اور حکومت کا ہاتھ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک آزاد اور مستحکم لیبیا امریکا کے مفاد میں ہے اور اس واقعہ سے دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جس ملک کے شہریوں کو آزادی دلانے میں امریکا نے کردار ادا کیا تھا ،وہ اس کے سفارت کاروں پر کیسے حملہ کرسکتے ہیں۔

لیبیا کے حکام نے سابق صدر معمر قذافی کے حامیوں اور القاعدہ پر مشرقی شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

لیبیا کی منتخب جنرل نیشنل کانگریس کے صدر محمد المقریف کا کہنا ہے کہ امریکی قونصل خانے پر حملہ نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر کیا گیا ہے اور اس کی واضح اہمیت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین کو بزدلانہ اور انتقامی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انھوں نے سابق حکومت کی باقیات پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ اس کا مقصد ملک میں جمہوریت کے لیے ہونے والی پیش رفت کو سبوتاژ کرنا ہے۔

امریکا بن غازی میں اپنے قونصل خانے پر حملے کے بعد میرین کی ایک ٹیم کو سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے بھیج رہا ہے اور ہلاک شدہ امریکیوں کی لاشیں بن غازی سے دارالحکومت طرابلس منتقل کی جارہی تھیں۔