''مرحوم صدر کو دلیرانہ اقدامات کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا''
ہوگوشاویز کی موت پر عالمی رہ نماؤں کا خراج عقیدت
وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کی موت پر دنیا کے ممالک اور عالمی رہ نماؤں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔وہ گذشتہ قریبا دوسال سے سرطان کے مرض میں مبتلا تھے اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب اپنی جان کی بازی ہار گئے۔
ہوگو شاویز نے اپنے چودہ سالہ اقتدار کے دوران امریکا مخالف پالیسیاں اختیار کی تھیں اور انھوں نے دنیا میں امریکا مخالف لیڈروں ہی کو اپنا دوست بنایا۔ان میں لیبیا کے مقتول صدر معمرقذافی ،شامی صدر بشارالاسد اور ایران کے صدرمحمود احمدی نژاد نمایاں ہیں مگر ان لیڈروں کے لیے حمایت کی وجہ سے عرب بہار کے دوران عوامی سطح پر ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی تھی۔
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ہوگو شاویز کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''انھوں نے وینزویلا کے عوام کی خدمت کی اور انسانی اور انقلابی اقدارکا دفاع کیا۔وہ ایک مشتبہ بیماری کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں''۔
انھوں نے نائب صدر نکولس ماڈورو کے نام پیغام میں کہا کہ ''انھوں نے اپنے ملک کی ترقی اور عوام کی آزادی کے لیے جان قربان کردی ہے''۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے وینزویلا کے عوام کے ساتھ ہوگوشاویز کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ ''صدر ہوگوشاویز کے انتقال کی اس مشکل گھڑی میں امریکا وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور وہ وینزویلا کی حکومت کے ساتھ تعمیری تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ''اب کہ وینزویلا اپنی تاریخ کے نئے باب میں داخل ہورہا ہے،امریکا جمہوری اصولوں کے فروغ کے لیے ،قانونی کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام کے لیے پالیسیوں پر کاربند رہے گا''۔
کینسرکے مہلک مرض سے صحت یاب ہونے والی برازیلی صدر ڈیلما روسیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آج ایک عظیم لاطینی امریکی کا انتقال ہوا ہے۔بہت سے مواقع پر برازیلی حکومت کو صدر ہوگوشاویز سے اتفاق نہیں ہوتا تھا لیکن آج ان کے انتقال سے ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہو برازیل کے ایک دوست تھے۔ہم انھیں ہمیشہ ایک عظیم لیڈر کے طور پر تسلیم کرتے تھے''۔
برازیل کے سابق صدر لوئز اناسیو لیولا ڈاسلوا نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ''مجھے صدر ہوگو شاویز کی موت کی خبر سن کر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے ان کے ساتھ مل کر لاطینی امریکا کے اتحاد کے لیے کام کیا۔مجھے یقین ہے کہ اپنے وطن کے لیے ان کی محبت اور غریبوں کی بھلائی کے لیے ان کی لگن اور عزم کو جاری رکھا جائے گا''۔
کولمبیا کے صدر ژاں مینول سانٹوس اورچلی کے صدر سیبسٹئین پنیرا نے بھی ہوگو شاویز کو ان کی ولولہ انگیز قیادت پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویٹالے چرکین نے ان کی موت کو ایک المیہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک عظیم سیاست دان تھے۔
برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے بھی ان کے انتقال پر ان کے خاندان اور وینزویلا کے عوام سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے صدر ہوگو شاویز کی خبر سن کر صدمہ پہنچا ہے۔انھوں نے چودہ سال تک صدر کی حیثیت وینزویلا پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بھی مرحوم لیڈر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ''ہوگو شاویز لاطینی امریکا کی حکومتوں کی آزادی کے لیے اپنے دلیرانہ اقدامات اور بیانات کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔وہ غیرمعمولی ابلاغی صلاحیتوں کے مالک تھے اور انھوں نے اپنے عوام کے ساتھ ان کے ذریعے رابطہ رکھا''۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وینزویلا کی نئی قیادت معاشرے کے طبقات کی بھلائی کے لیے پالیسیاں جاری رکھے گی۔